background img

The New Stuff




 اصحاب کہف کون تھے ؟؟ پڑھیے قرآن و سنّت کے مطابق heart emoticon
اصحابِ کہف کون تھے؟ ان کی تعداد کتنی تھی؟ وہ کتنا عرصہ سوتے رہے؟ اور ان کے نام کیا کیا تھے . . . ؟؟؟
عظیم لوگوں کے بارے کچھ دلچسپ و عجیب بتاتے ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھا لئے جانے کے بعد عیسائیوں کا حال بے حد خراب اور نہایت ابتر ہو گیا۔ لوگ بت پرستی کرنے لگے اور دوسروں کو بھی بت پرستی پر مجبور کرنے لگے۔ خصوصاً ان کا ایک بادشاہ ''دقیانوس''تو اس قدر ظالم تھا کہ جو شخص بت پرستی سے انکار کرتا تھا یہ اُس کو قتل کرڈالتا تھا۔


اصحابِ کہف شہر ''اُفسوس''کے شرفاء تھے جو بادشاہ کے معزز درباری بھی تھے۔ مگر یہ لوگ صاحب ِ ایمان اور بت پرستی سے انتہائی بیزار تھے۔ ''دقیانوس''کے ظلم و جبر سے پریشان ہو کر یہ لوگ اپنا ایمان بچانے کے لئے اُس کے دربار سے بھاگ نکلے اور قریب کے پہاڑ میں ایک غار کے اندر پناہ گزیں ہوئے اور سو گئے، تو تین سو برس سے زیادہ عرصے تک اسی حال میں سوتے رہ گئے۔ دقیانوس نے جب ان لوگوں کو تلاش کرایا اور اُس کو معلوم ہوا کہ یہ لوگ غار کے اندر ہیں تو وہ بے حد ناراض ہوا۔ اور فرط غیظ و غضب میں یہ حکم دے دیا کہ غار کو ایک سنگین دیوار اُٹھا کر بند کردیا جائے تاکہ یہ لوگ اُسی میں رہ کر مرجائیں اور وہی غار ان لوگوں کی قبر بن جائے۔
مگر دقیانوس نے جس شخص کے سپرد یہ کام کیا تھا وہ بہت ہی نیک دل اور صاحب ِ ایمان آدمی تھا۔ اُس نے اصحاب ِکہف کے نام اُن کی تعداد اور اُن کا پورا واقعہ ایک تختی پر کندہ کرا کر تانبے کے صندوق کے اندر رکھ کر دیوار کی بنیاد میں رکھ دیا۔ اور اسی طرح کی ایک تختی شاہی خزانہ میں بھی محفوظ کرادی۔ کچھ دنوں کے بعد دقیانوس بادشاہ مر گیا اور سلطنتیں بدلتی رہیں۔ یہاں تک کہ ایک نیک دل اور انصاف پرور بادشاہ جس کا نام ''بیدروس'' تھا، تخت نشین ہوا جس نے اڑسٹھ سال تک بہت شان و شوکت کے ساتھ حکومت کی۔ اُس کے دور میں مذہبی فرقہ بندی شروع ہو گئی اور بعض لوگ مرنے کے بعد اُٹھنے اور قیامت کا انکار کرنے لگے۔ قوم کا یہ حال دیکھ کر بادشاہ رنج و غم میں ڈوب گیا اور وہ تنہائی میں ایک مکان کے اندر بند ہو کر خداوند قدوس عزوجل کے دربار میں نہایت بے قراری کے ساتھ گریہ و زاری کر کے دعائیں مانگنے لگا کہ یا اللہ عزوجل کوئی ایسی نشانی ظاہر فرما دے تاکہ لوگوں کو مرنے کے بعد زندہ ہو کر اٹھنے اور قیامت کا یقین ہوجائے۔
بادشاہ کی یہ دعا مقبول ہو گئی اور اچانک بکریوں کے ایک چرواہے نے اپنی بکریوں کو ٹھہرانے کے لئے اسی غار کو منتخب کیا اور دیوار کو گرا دیا۔ دیوار گرتے ہی لوگوں پر ایسی ہیبت و دہشت سوار ہو گئی کہ دیوار گرانے والے لرزہ براندام ہو کر وہاں سے بھاگ گئے اور اصحابِ کہف بحکم الٰہی اپنی نیند سے بیدار ہو کر اٹھ بیٹھے اور ایک دوسرے سے سلام و کلام میں مشغول ہو گئے اور نماز بھی ادا کرلی۔ جب ان لوگوں کو بھوک لگی تو ان لوگوں نے اپنے ایک ساتھی یملیخاسے کہا کہ تم بازار جا کر کچھ کھانا لاؤ اور نہایت خاموشی سے یہ بھی معلوم کرو کہ ''دقیانوس''ہم لوگوں کے بارے میں کیا ارادہ رکھتا ہے؟

''یملیخا''غار سے نکل کر بازار گئے اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ شہر میں ہر طرف اسلام کا چرچا ہے اور لوگ اعلانیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کلمہ پڑھ رہے ہیں۔یملیخا یہ منظر دیکھ کر محو حیرت ہو گئے کہ الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟کہ اس شہر میں تو ایمان واسلام کا نام لینا بھی جرم تھا آج یہ انقلاب کہاں سے اورکیونکر آگیا؟
پھر یہ ایک نانبائی کی دکان پر کھانا لینے گئے اور دقیانوسی زمانے کا روپیہ دکاندار کو دیا جس کا چلن بند ہوچکا تھا بلکہ کوئی اس سکہ کا دیکھنے والا بھی باقی نہیں رہ گیا تھا۔ دکاندار کو شبہ ہوا کہ شاید اس شخص کو کوئی پرانا خزانہ مل گیا ہے چنانچہ دکاندار نے ان کو حکام کے سپرد کردیا اور حکام نے ان سے خزانے کے بارے میں پوچھ گچھ شروع کردی اور کہا کہ بتاؤ خزانہ کہاں ہے؟
''یملیخا'' نے کہا کہ کوئی خزانہ نہیں ہے۔ یہ ہمارا ہی روپیہ ہے۔ حکام نے کہا کہ ہم کس طرح مان لیں کہ روپیہ تمہارا ہے؟ یہ سکہ تین سو برس پرانا ہے اور برسوں گزر گئے کہ اس سکہ کا چلن بند ہو گیا اور تم ابھی جوان ہو۔ لہٰذا صاف صاف بتاؤ کہ عقدہ حل ہوجائے۔ یہ سن کریملیخا نے کہا

کہ تم لوگ یہ بتاؤ کہ دقیانوس بادشاہ کا کیا حال ہے؟ حکام نے کہا کہ آج روئے زمین پر اس نام کا کوئی بادشاہ نہیں ہے۔ ہاں سینکڑوں برس گزرے کہ اس نام کا ایک بے ایمان بادشاہ گزرا ہے جو بت پرست تھا۔ ''یملیخا'' نے کہا کہ ابھی کل ہی تو ہم لوگ اس کے خوف سے اپنے ایمان اور جان کو بچا کر بھاگے ہیں۔ میرے ساتھی قریب ہی کے ایک غار میں موجود ہیں۔ تم لوگ میرے ساتھ چلو میں تم لوگوں کو اُن سے ملادوں۔ چنانچہ حکام اور عمائدین شہر کثیر تعداد میں اُس غار کے پاس پہنچے۔ اصحاب ِ کہف ''یملیخا'' کے انتظار میں تھے۔ جب ان کی واپسی میں دیر ہوئی تو اُن لوگوں نے یہ خیال کرلیا کہ شاید یملیخا گرفتار ہو گئے اور جب غار کے منہ پر بہت سے آدمیوں کا شور و غوغا ان لوگوں نے سنا تو سمجھ بیٹھے کہ غالباً دقیانوس کی فوج ہماری گرفتاری کے لئے آن پہنچی ہے۔ تو یہ لوگ نہایت اخلاص کے ساتھ ذکر ِ الٰہی اور توبہ و استغفار میں مشغول ہو گئے۔
حکام نے غار پر پہنچ کر تانبے کا صندوق برآمد کیا اور اس کے اندر سے تختی نکال کر پڑھا تو اُس تختی پر اصحاب ِ کہف کا نام لکھا تھا اور یہ بھی تحریر تھا کہ یہ مومنوں کی جماعت اپنے دین کی حفاظت کے لئے دقیانوس بادشاہ کے خوف سے اس غار میں پناہ گزیں ہوئی ہے۔ تو دقیانوس نے خبر پا کر ایک دیوار سے ان لوگوں کو غار میں بند کردیا ہے۔ ہم یہ حال اس لئے لکھتے ہیں کہ جب کبھی بھی یہ غار کھلے تو لوگ اصحاب ِ کہف کے حال پر مطلع ہوجائیں۔ حکام تختی کی عبارت پڑھ کر حیران رہ گئے۔ اور ان لوگوں نے اپنے بادشاہ ''بیدروس'' کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔ فوراً ہی بید روس بادشاہ اپنے امراء اور عمائدین شہر کو ساتھ لے کر غار کے پاس پہنچا تو اصحاب ِ کہف نے غار سے نکل کر بادشاہ سے معانقہ کیا اور اپنی سرگزشت بیان کی۔ بیدروس بادشاہ سجدہ میں گر کر خداوند قدوس کا شکر ادا کرنے لگا کہ میری دعا قبول ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے ایسی نشانی ظاہر کردی جس سے موت کے بعد زندہ ہو کر اُٹھنے کا ہر شخص کو یقین ہو گیا۔ اصحاب ِ کہف بادشاہ کو دعائیں دینے لگے کہ اللہ تعالیٰ تیری بادشاہی کی حفاظت فرمائے۔ اب ہم تمہیں اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔ پھر اصحاب ِ کہف نے السلام علیکم کہا اور غار کے اندر چلے گئے اور سو گئے اور اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو وفات دے دی۔ بادشاہ بیدروس نے سال کی لکڑی کا صندوق بنوا کر اصحابِ کہف کی مقدس لاشوں کو اس میں رکھوا دیا اور اللہ تعالیٰ نے اصحاب ِ کہف کا ایسا رعب لوگوں کے دلوں میں پیدا کردیا کہ کسی کی یہ مجال نہیں کہ غار کے منہ تک جا سکے۔ اس طرح اصحاب ِ کہف کی لاشوں کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے سامان کردیا۔ پھر بیدروس بادشاہ نے غار کے منہ پر ایک مسجد بنوا دی اور سالانہ ایک دن مقرر کردیا کہ تمام شہر والے اس دن عید کی طرح زیارت کے لئے آیا کریں۔
(یہ واقعہ تفسیر خازن کے حوالے سے پیش کیا گیا، ج۳،ص۱۹۸۔۲۰۰)
اصحابِ کہف کی تعداد میں جب لوگوں کا اختلاف ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی کہ :۔
قُل رَّبِّیۡۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِہِمۡ مَّا یَعْلَمُہُمْ اِلَّا قَلِیۡلٌ )پ15،الکہف:22(
ترجمہ قرآن:۔ تم فرماؤ میرا رب ان کی گنتی خوب جانتاہے انہیں نہیں جانتے مگر تھوڑے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں انہی کم لوگوں میں سے ہوں جو اصحابِ کہف کی تعداد کو جانتے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اصحاب ِ کہف کی تعداد سات ہے اور آٹھوں اُن کا کتا ہے۔
(تفسیرصاوی، ج ۴ ،ص۱۱۹۱،پ۱۵،الکہف:۲۲)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کا حال بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:۔
(پ15،الکہف:9۔13)
ترجمہ قرآن:۔کیا تمہیں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی کھوہ اور جنگل کے کنارے والے ہماری ایک عجیب نشانی تھے جب ان جوانوں نے غار میں پناہ لی پھر بولے اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے اور ہمارے کام میں ہمارے لئے راہ یابی کے سامان کر تو ہم نے اس غار میں ان کے کانوں پر گنتی کے کئی برس تھپکا پھر ہم نے انہیں جگایا کہ دیکھیں دو گرہوں میں کون ان کے ٹھہرنے کی مدت زیادہ ٹھیک بتاتا ہے ہم ان کا ٹھیک ٹھیک حال تمہیں سنائیں وہ کچھ جو ان تھے کہ اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ہدایت بڑھائی۔
اس سے اگلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب ِ کہف کا پورا پورا حال بیان فرمایا ہے ۔ جس کا تذکرہ اوپر ہوچکا۔
اصحابِ کہف کے نام:۔
ان کے ناموں میں بھی بہت اختلاف ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُن کے نام یہ ہیں۔ یملیخا، مکشلینا، مشلینا، مرنوش، دبرنوش، شاذنوش اور ساتواں چرواہا تھا جو ان لوگوں کے ساتھ ہو گیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اُس کا ذکر نہیں فرمایا۔ اور ان لوگوں کے کتے کا نام'' قطمیر ''تھا اور ان لوگوں کے شہر کا نام ''افسوس''تھا اور ظالم بادشاہ کا نام ''دقیانوس''تھا۔
(مدارک التنزیل ،ج ۳، ص ۲۰۶،پ۱۵،الکہف:۲۲)

اور تفسیر صاوی میں لکھا ہے کہ اصحاب ِ کہف کے نام یہ ہیں۔ مکسملینا، یملیخا، طونس، نینوس، ساریونس، ذونوانس، فلستطیونس۔ یہ آخری چرواہے تھے جو راستے میں ساتھ ہو لئے تھے اور ان لوگوں کے کتے کا نام ''قطمیر'' تھا۔
(صاوی،ج۴،ص۱۱۹۱،پ۱۵،الکہف:۲۲)
اصحابِ کہف کتنے دنوں تک سوتے رہے:۔
جب قرآن کی آیت وَ لَبِثُوۡا فِیۡ کَہۡفِہِمْ ثَلٰثَ مِائَۃٍ سِنِیۡنَ وَازْدَادُوۡا تِسْعًا ﴿۲۵﴾ )پ۱۵،الکھف:۲۵
(اور وہ اپنے غار میں تین سو برس ٹھہرے نو اوپر) نازل ہوئی۔
تو کفار کہنے لگے کہ ہم تین سو برس کے متعلق تو جانتے ہیں کہ اصحاب ِ کہف اتنی مدت تک غار میں رہے مگر ہم نو برس کو نہیں جانتے تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ شمسی سال جوڑ رہے ہو اور قرآن مجید نے قمری سال کے حساب سے مدت بیان کی ہے اور شمسی سال کے ہر سو برس میں تین سال قمری بڑھ جاتے ہیں۔
(صاوی،ج۴،ص۱۱۹۳،پ۱۵،الکہف:۲۵)
اللہ عزوجل اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے ہم سب کی مشکلات، بیماریوں اور پریشانیوں کو دور فرما اور ہماری خطاؤں سے درگزر فرما۔
آمین یا ارحم الراحمین بجاہ النبی الامین عزوجل و ﷺ

راھ کرم ایک عدد سبحان الله کا کمنٹ ضرور دیں لائیک پر کلک کرکے دوستوں سے ضرور  شیئر کریں

دنیا کے ہر معاشرے میں شادی کا موقع خوشیاں اور محبتیں لے کر آتا ہے جس میں دو خاندان ملتے ہیں اور ایک جوڑے کی نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے اور وہ مستقبل کے خواب دیکھنے لگتے ہیں لیکن شادی کی پہلی رات سے متعلق دنیا بھر کے لوگوں کی کچھ دلچسپ اور عجیب و غریب روایات جڑی ہوئی ہیں۔


تکیے کے نیچے پنیر کا رکھنا: کچھ معاشروں میں روایات مشہور ہے کہ اگر شادی کی پہلی رات دُلہا ور دُلہن کے تکیے کے نیچے ایک پاؤنڈ پنیر رکھ دیا جائے تو کثرت اولاد ہوگی۔

جو پہلے سوئے گا وہی پہلے مرے گا: شادی کی رات سے متعلق ایک بات یہ بھی سننے کو ملتی ہے کہ اس رات دُلہا یا دُلہن میں سے جو پہلے سوئے گا اس کی عمر کم ہوگی اوروہ اپنے ساتھی کے مقابلے میں جلدی دنیا سے رخصت ہوجائے گا۔

پھولوں سے سجا کمرا: ایک قدیم روایت میں لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر شادی کا کمرہ دلکش، خوبصورت، رنگ برنگے اور مہکتے پھولوں سے سجا ہوتو پھولوں کی یہ خوشبو نئے جوڑے کے زندگی کے اس نئے سفر کے آغاز پر موڈ کو رومانٹک بنا دیتا ہے جس کا اثر مستقبل میں بھی برقرار رہتا ہے۔ عام طور اس رات کمرے کو سجانے کے لیے گلاب، اور جیثمین کے پھولوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

دوست اور رشتے داروں کے لیے فن: شادی کی رات کوقریبی رشتے داراور بالخصوص قریبی دوست دُلہا کے ساتھ خوب مذاق کرتے ہیں اور انہیں دُلہن کے پاس رات گئے تک جانے نہیں دیتے اور اس نازک موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی کئی ڈیمانڈز منوا لیتے ہیں اور بیچارا دُلہا اپنی نئی نویلی دُلہن کے پاس جلد جانے کی خواہش میں کئی مطالبے ماننے پر مجبور بھی ہوجاتا ہے۔

منہ دکھائی:عام طورپر دُلہن کو کمرے میں پہلے بھیج دیا جاتا ہے تاکہ وہ کچھ آرام کر لے جب کہ دُلہا کچھ دیر بعد کمرے میں داخل ہوتا ہے اور دُلہن کا چہرہ دیکھنے کے لیے گھونگھنٹ اٹھاتا ہے اور دُلہن کو تحفہ دیتا ہے جسے منہ دکھائی کہا جاتا ہے اور عام طور پر دُلہن اسے زندگی بھر یاد رکھتی ہے۔

دودھ کا گلاس: اس قدیم رویات کے مطابق شب عروسی پرزعفران ملے دودھ کا گلاس دُلہا اور دُلہن کو دیا جاتا ہے تاکہ شادی کی رسومات سے تھکا یہ جوڑا اپنی زندگی کے نئے سفر کا آغاز بھرپور توانائی سےکرے۔

کار کے پیچھے ٹِن باندھنا: امریکا میں عام طور پر شادی والی رات جس کار میں دُلہا اور دُلہن کو سفر کرنا ہوتا ہے اس کے پیچھے ٹِن سے بنے گلاس باندھ دیے جاتے ہیں جس کو خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

بیڈ پر پانی کا چھڑکنا : اسکاٹ لینڈ میں دُلہا اور دُلہن کے بستر پر پانی کا اسپرے کیا جاتا ہے اور لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ اچھی قسمت کی نشانی ہے جب کہ دُلہا اپنا پہلا ہفتہ نئی نویلی دُلہن کے ساتھ اپنے سسرال میں گزارتا ہے۔

کمرے سے باہر خوب شور اور ہنگامہ: امریکا، فرانس اور جرمنی میں یہ عام روایت ہے کہ دُلہا اور دُلہن کے دوست کمرے کے باہر خوب شور مچاتے ہیں اور اس نئے جوڑے کو خوب پریشان کرتے ہیں جسے چیوری یا شیواری کہا جاتا ہے جب کہ کچھ دوست تو کمرے کے باہر غبارے پھوڑتے اور بسترپر کھانے کی چیزیں بکھیر دیتے ہیں اور ساتھ ہی کمرے میں کئی جگہوں ہر الارم چھپادیتے ہیں۔ جرمنی میں ایک اور روایت عام ہے ۔جس کے مطابق  چینی کے برتنوں کو توڑا جاتا ہے جس سے شیطانی روح بھاگ جاتی ہے جب کہ پھر ان ٹوٹوں ہوئے برتنوں کو اس نئے جوڑے سے صاف کرایا جاتا ہے تاکہ انہیں اندازہ ہو کہ آئندہ زندگی بہت سخت ہے لیکن اگر وہ اسے مل کر گزاریں گے تو کامیاب رہیں گے۔

رومانیہ کی روایات: رومانیہ میں لوگوں کا ماننا ہے کہ جب دُلہن شادی کی رات دُلہا کے گھر داخل ہوتے وقت لڑکھڑا جائے تو اسے بد قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے اس لیے دُلہن کی سہیلیاں اسے پکڑ کر کمرے تک چھوڑتی ہیں تاکہ وہ لڑکھڑا نہ جائے۔

چینی روایت: چین میں شادی والی رات نئے جوڑے کے کمرے میں ڈریگون کی شکل والی موم بتی جلائی جاتی ہے تاکہ اگر کوئی شیطانی روح موجود ہے تو وہ بھاگ جائے۔ چین کے کچھ علاقوں میں دُلہا دُلہن پر تیر کمان سے تین بار تیرچلاتا ہے لیکن اس میں تیر کا سرا نہیں ہوتا پھر اس کمان کو توڑ دیتا ہے جس کا مقصد نئے جوڑے میں ہمیشہ کے لیے محبت قائم رکھنا ہے۔

کینیا کی روایت: کینیا میں دلچسپ روایت یہ ہے کہ اس رات سے لے کر ایک ماہ تک دُلہا خواتین کا لباس پہنتے ہیں جس کا مقصد یہ احساس اجاگر کرنا ہے کہ خاتون ہونا کتنا مشکل کام ہے۔

کوریا کی روایت: کوریا میں شادی والی رات رشتے دار دُلہا کے پاؤں کو مچھلی یا پھربوتل کے کین سے پیٹا جاتا ہے تاکہ دیکھا جائے کہ دُلہا میں نئی زندگی کے آغاز کے لیے درکار توانائی کتنی موجود ہے۔

آئرلینڈ کی روایت: آئر لینڈ کے لوگوں کی قدیم روایت ہے کہ شادی والی  رات جب دُلہا اور دُلہن رقص کرتے ہیں تو دلہن کے پاؤں فرش کے ساتھ لگے رہتے ہیں کیوں کہ ان کا ماننا ہے کہ اگر دُلہن نے پاؤں اٹھا لیے تو شیطانی روح دونوں کے تعلقات کو مستقبل میں خراب کرسکتی ہے۔


انڈونیشیا کی روایت: یہاں کے لوگوں کی ایک عجیب و غریب روایت یہ ہے کہ شادی والی رات سے لے کر 3 دن تک نئے  جوڑے پر ٹوائلٹ جانے کی پابندی ہوتی ہے اس دوران انہیں انتہائی کم غذا دی جاتی ہے تاکہ وہ خود کو کنٹرول کر سکیں۔

Ba Adab



The Animal world is awe-inspiring and full of surprises, I collected some animal facts that will amaze, amuse teach you something new. Plus - super cute pictures!!!

1. Did you know that Turtles can breath through their anus?!


2. If a Squirrel finds a baby squirrel without parents, it will immediately adopt it!


3. Bees communicate through a complex dance.


4. Did you know that Dolphins actually have specific names for each-other?


5. In Japan, Macaques search for lost coins, as they learned to use vending machines!



6. Humpback Whales can get a song stuck in their head!


7. Did you know that a group of Pugs is called a "Grumble"?


8. Baby Chimpanzees will pick up and play with rocks and sticks, pretending they're babys.


9. This surprised me too, but apparently, Rats Mice are ticklish and can actually laugh!


10. Ever seen an excited bunny do this? It's called a "Binky"...


11. So a group of bunnies is called a "Fluffle" and that's just too adorable!


12. Shaved Guinea Pigs look exactly like baby Hippos!


13. When passing by another, an ant will bow it's head in greeting. Aren't these little fellas polite?


14. Did you know that the Norwegian Army has a Knighted Colonel who's a Penguine?! his name is Colonel-in-Chief, Sir Nils Olav!


15. Goats from different parts of the world actually have different accents!


16. Pom-pom Crabs aren't the ocean's cheerleaders, they actually pick poisonous anemones and wave them to defend themselves from predators.

17. Speaking of Macaques again, when they're young - these guys make snowballs for fun! (but unlike us, they don't throw them at eachother...)


18. Ever seen dogs play around, then suddenly sneeze? That's how they tell eachother that this is a game and not real aggression.


19. Fennec Foxes have extra-hairy feet, they act like snowboots - but for sand, making sure the fox can run faster and doesn't get burns on their little fluffy feet.


20. Sea Horses are amazing! They mate for life and when they swim around, they'll hold onto their mate's tail. (Oh, and the males actually get pregnant)


21. When Otters go to sleep at night, they hold hands so they don't get separated.


22. Does your cat bump it's head against you? It's their way of showing that they trust you!



23. In Sweden, they have an actual bunny-jumping show, called "Kaninhoppning" (Seriously!)


24. Crows are known for being intelligent, but did you also know that they're such rascals that they play pranks on eachother, just for fun?


25. Cows choose other cows as best-friends and spend all their time together.


26. Did you know that when they play, male puppies will let the females win?


27. Squirrels hide some of their nuts by burying them, but they're also forgetful and these forgotten nuts lead to hundreds of new trees each year!


28. Did you know that Elephant Shrews are actually related to Elephants, not Shrews?


29. You probably heard that Otters use rocks to break-open mollusks, but did you know that they have a "favorite" rock, which they keep in a special pocket made of a skin-flap?


30. Wombat poop is square! (but they're so adorable!)


I hope you enjoyed reading these as much as I did finding them!

__._,_.___

30 Surprising Animal Facts


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Popular Posts

" });